Hoda خوشی سے سیکھیں، قطرہ قطرہ

Basic · Knowing Allah · Faith & Theology · عمر ‎5‎–‎99‎

اللہ کون ہے؟ ہر چیز کا خالق

اللہ نے ہر چیز کو کچھ نہ ہونے سے پیدا کیا، اور اللہ ہی ہر لمحہ ہر چیز کو قائم رکھتا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کو غور سے دیکھنا اور ان پر سوچنا اللہ کی پہچان تک لے جاتا ہے۔

آپ کیا سیکھیں گے

آسمان کو دیکھیں۔ کسی درخت کو دیکھیں۔ اپنے ہاتھوں کو دیکھیں۔ یہ سب کسی انسان نے نہیں بنایا! تو پھر کس نے بنایا؟

کیا آسمان کسی انسان نے بنایا ہے؟

جواب: نہیں، کسی انسان نے نہیں بنایا

اپنی انگلی کی پور کو غور سے دیکھیں۔ اس پر ایسی لکیریں ہیں جو دنیا میں کسی اور کی انگلی پر نہیں۔ ایک ننھا سا بیج بڑھ کر گھر سے بھی اونچا درخت بن جاتا ہے۔ کوئی بیج خود کو نہیں اگاتا، اور کوئی انسان زندہ بیج نہیں بنا سکتا۔ تو یہ سب کہاں سے آتے ہیں؟

کیا بیج اپنے آپ درخت بن سکتا ہے؟

جواب: نہیں، بیج خود سے یہ نہیں کر سکتا

کبھی نہ کبھی زیادہ تر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے: آخر کچھ بھی موجود کیوں ہے؟ ایسا کیوں نہیں کہ کچھ بھی نہ ہوتا؟ یہ سوال پوچھنا کمزور ایمان کی نشانی نہیں۔ ہر چیز کہاں سے آئی، اس پر گہرائی سے سوچنا ہی اللہ کی پہچان کا آغاز ہے۔ سائنس بتاتی ہے کہ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں، جبکہ یہ سوال اس بارے میں ہے کہ کچھ موجود ہی کیوں ہے۔

کیا یہ پوچھنا کہ "آخر کچھ بھی موجود کیوں ہے؟" کمزور ایمان کی نشانی ہے؟

جواب: نہیں، یہی سوال اللہ کی پہچان کا آغاز بن سکتا ہے

کام، پڑھائی اور اسکرینوں میں ہفتے گزر جاتے ہیں، اور اُن چیزوں پر دھیان ہی نہیں جاتا جو ہم نے نہیں بنائیں: راستے میں سر پر پھیلا آسمان، خود بخود آتی جاتی سانس۔ مگر سورج گرہن جیسے نایاب منظر کی طرح انہیں بھی کسی انسان نے نہیں بنایا، اور یہ بھی کہیں سے تو آئی ہیں۔ تو یہ اپنے سرچشمے کا کیا پتا دیتی ہیں؟

اللہ کے بارے میں کچھ بتانے کے لیے کیا کسی چیز کا نایاب یا غیر معمولی ہونا ضروری ہے؟

جواب: نہیں، روزمرہ کی چیزیں بھی نایاب چیزوں جتنا ہی بتا سکتی ہیں

برسوں سے آپ کی صبحیں ذمہ داریوں سے بھری ہیں۔ پھر ایک خاموش لمحہ آتا ہے: دیوار پر پڑتی دھوپ، کھڑکی پر آ بیٹھا پرندہ۔ انہیں کسی انسان نے نہیں بنایا، اور یہ منظر آپ ہزاروں بار دیکھ چکے ہیں۔ دھوپ نہیں بدلی، آپ کی نظر بدلی ہے، جو اب زیادہ غور سے دیکھتی ہے۔ تو جانی پہچانی چیزیں اب بھی ہمیں کیا دکھا سکتی ہیں؟

برسوں ایک جیسی صبحوں کے بعد، سب سے بڑھ کر کیا چیز انسان کی توجہ پھر سے دنیا کی طرف موڑ سکتی ہے؟

جواب: ہمیشہ سے موجود چیزوں کو دیکھنے کا ایک نیا انداز

آپ نے بہت سے موسموں کو بدلتے دیکھا ہے۔ پت جھڑ کی خالی شاخیں ہر سال پھر سے ہری ہو جاتی ہیں۔ لمبا تجربہ دنیا کو معمولی بھی دکھا سکتا ہے، اور دنیا کی سمجھ کو گہرا بھی کر سکتا ہے۔ تو یہ سب کہاں سے آتا ہے، اور یہ سب ہمیں اللہ کے بارے میں کیا بتاتا ہے، جو ہر دم سب کچھ قائم رکھتا ہے؟

کیا کسی چیز کو بار بار دیکھنا اسے ہمارے لیے کم معنی خیز بناتا ہے یا زیادہ؟

جواب: یہ اس پر منحصر ہے کہ اسے کس نظر سے دیکھا جائے

انسان کچھ بناتے ہیں تو کسی چیز سے بناتے ہیں۔ نان بائی کو آٹا چاہیے۔ مستری کو اینٹیں چاہییں۔ مگر اللہ کی بات اور ہے۔ اللہ نے ہر چیز کچھ نہ ہونے سے بنائی۔

کیا نان بائی آٹے کے بغیر روٹی بنا سکتا ہے؟

جواب: نہیں، نان بائی کو آٹا چاہیے

اللہ نے آسمان، سمندر، درخت اور جانور بنائے، اور آپ کو بھی۔ یہ ساری چیزیں اللہ نے کچھ نہ ہونے سے بنائیں۔ اللہ خالق ہے۔ اللہ ایک ہے، اور اسی نے سب کچھ بنایا۔

اللہ نے دنیا کس چیز سے بنائی؟

جواب: کچھ نہ ہونے سے

شروع میں کچھ بھی نہیں تھا۔ جس مٹی سے اینٹیں بنتی ہیں، وہ مٹی بھی اللہ ہی نے بنائی۔

ایک انسان کرسی بنا سکتا ہے، مگر صرف اُس لکڑی سے جو پہلے سے موجود ہو۔ مگر اللہ کی بات اور ہے۔ اللہ نے ہر چیز کچھ نہ ہونے سے بنائی: آسمان، سمندر، ہر جانور، اور آپ کو بھی۔

کرسی بنانے کے لیے پہلے سے کیا موجود ہونا چاہیے؟

جواب: لکڑی یا کوئی اور سامان

کچھ نہ ہونے سے کوئی چیز وجود میں لانے کو تخلیق کرنا کہتے ہیں۔ اسی لیے اللہ کا ایک نام خالق ہے، یعنی پیدا کرنے والا۔ اللہ ایک ہی ہے، اور صرف اللہ ہی کچھ نہ ہونے سے پیدا کرتا ہے۔

تخلیق کرنے اور عام طرح سے بنانے میں کیا فرق ہے؟

جواب: بنانے میں سامان لگتا ہے، تخلیق کچھ نہ ہونے سے ہوتی ہے

انسان صرف موجود چیزوں کی شکل بدلتے ہیں، جبکہ اللہ چیزوں کو وجود ہی عطا کرتا ہے۔

معمار پہلے سے موجود سامان کو نئی ترتیب دیتے ہیں۔ اللہ چیزوں کو بالکل عدم سے وجود میں لاتا ہے۔ زمان و مکان بھی اللہ ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اسی لیے اللہ کو خالق کہا جاتا ہے۔ اللہ ایک ہے، اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جو عدم سے پیدا کرے۔

ایک بڑھئی لکڑی سے میز بناتا ہے۔ کیا اللہ کا پیدا کرنا بھی ایسا ہی ہے، بس کہیں بڑے پیمانے پر؟

جواب: نہیں، اللہ تو خود اس لکڑی کو بھی وجود میں لاتا ہے

اللہ ایسا نہیں کہ ایک بار پیدا کر کے الگ ہو جائے۔ اللہ ہر لمحہ ہر چیز کو قائم رکھے ہوئے ہے۔ کائنات کی کسی چیز نے خود کو نہیں بنایا، اور کوئی چیز اللہ کے بغیر خود کو قائم نہیں رکھ سکتی۔

اس وقت کائنات کس کے سہارے قائم ہے؟

جواب: اللہ کے سہارے، جو ہر لمحہ کائنات کو سنبھالتا ہے

اگر اللہ ایک لمحے کے لیے بھی کائنات کو نہ سنبھالے تو کچھ باقی نہ رہے۔ قوانین تو صرف بتاتے ہیں کہ چیزیں کیسے چلتی ہیں۔

اللہ Allah

اُس ایک خدا کا نام جس نے ہر چیز کو پیدا کیا

یہ خدا کا عربی نام ہے۔ ہر زبان بولنے والے مسلمان اسی نام سے اُس ایک ذات کو پکارتے ہیں جس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔

خالق al-Khaliq

پیدا کرنے والا

اللہ کے ناموں میں سے ایک: وہ ذات جو چیزوں کو عدم سے وجود میں لاتی ہے۔ انسان صرف پہلے سے موجود چیزوں سے بناتے ہیں، عدم سے پیدا کرنا صرف اللہ کا کام ہے۔

خالق وہ ہے جو…

جواب: کچھ نہ ہونے سے بناتا ہے

خالق کا مطلب ہے کچھ نہ ہونے سے پیدا کرنے والا۔ انسان صرف پہلے سے موجود چیزوں سے بناتے ہیں۔ اور اللہ اپنی بنائی ہوئی کسی چیز کو کبھی چھوڑ نہیں دیتا۔

اللہ Allah

اُس ایک خدا کا نام جس نے ہر چیز کو پیدا کیا

یہ خدا کا عربی نام ہے۔ ہر زبان بولنے والے مسلمان اسی نام سے اُس ایک ذات کو پکارتے ہیں جس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔

خالق al-Khaliq

پیدا کرنے والا

اللہ کے ناموں میں سے ایک: وہ ذات جو چیزوں کو عدم سے وجود میں لاتی ہے۔ انسان صرف پہلے سے موجود چیزوں سے بناتے ہیں، عدم سے پیدا کرنا صرف اللہ کا کام ہے۔

مصور کو اکثر تخلیق کار کہا جاتا ہے۔ پھر «خالق» کا نام کس معنی میں صرف اللہ کے لیے خاص ہے؟

جواب: اللہ چیزوں کو عدم سے نکال کر وجود ہی عطا کرتا ہے

مصور پہلے سے موجود رنگوں کو ترتیب دیتا ہے۔ خالق وہ ہے جو اُسے وجود میں لاتا ہے جو تھا ہی نہیں، رنگ بھی اور مصور بھی۔

کون کیا بناتا ہے؟ جوڑیاں ملائیں۔

ہر چیز کو صحیح خانے میں رکھیں۔

کون سا جملہ بتاتا ہے کہ اللہ کے پیدا کرنے کا مطلب کیا ہے؟

جواب: اللہ چیزوں کو عدم سے نکال کر وجود میں لاتا ہے

تعمیر کے لیے پہلے سے موجود سامان درکار ہوتا ہے، مگر پیدا کرنے کا مطلب ہے وجود ہی عطا کرنا۔ اللہ کے ساتھ کوئی ایسی چیز موجود نہیں تھی جسے شکل دی جاتی۔

اللہ نے دنیا بنائی، اور دنیا کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ اللہ ہر روز ہر چیز کا خیال رکھتا ہے۔ اللہ سورج کا، بارش کا اور آپ کا بھی خیال رکھتا ہے۔

اللہ دنیا کا خیال کب رکھتا ہے؟

جواب: ہر روز، ہر وقت

آپ سو رہے ہوں، تب بھی اللہ آپ کا خیال رکھتا ہے۔

اللہ نے دنیا بنائی، اور پھر دنیا کو چھوڑ نہیں دیا۔ اللہ ہر لمحہ سورج کو چمکاتا ہے، آپ کے دل کو دھڑکاتا ہے اور پوری دنیا کو قائم رکھتا ہے۔

دنیا اس وقت کیسے قائم ہے؟

جواب: اللہ ہر لمحہ دنیا کو قائم رکھتا ہے

کوئی چیز ایک لمحے کے لیے بھی خود کو قائم نہیں رکھ سکتی۔ آپ کے دل کی اگلی دھڑکن بھی اللہ کے سہارے ہے۔

صحیح یا غلط؟

صحیح یا غلط؟

ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ وَكِيلٌ

اللہ ہی ہر شے کا خالق ہے اور وہی ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہے

Az-Zumar · 62 · سید ذیشان حیدر جوادی (تنزیل)

اللہ نے کیا بنایا؟

جواب: ہر چیز

اللہ نے ہر چیز بنائی۔ اللہ ہر چیز کا خیال بھی رکھتا ہے۔

ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ وَكِيلٌ

اللہ ہی ہر شے کا خالق ہے اور وہی ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہے

Az-Zumar · 62 · سید ذیشان حیدر جوادی (تنزیل)

ان الفاظ کے مطابق اللہ کس چیز کا خالق ہے؟

جواب: ہر چیز کا

یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور ہر چیز کا نگہبان بھی۔ نگہبان ہونے کا مطلب ہے کہ اللہ ہر چیز کو سنبھالتا اور اس کی حفاظت کرتا ہے۔

ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ وَكِيلٌ

اللہ ہی ہر شے کا خالق ہے اور وہی ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہے

Az-Zumar · 62 · سید ذیشان حیدر جوادی (تنزیل)

ان الفاظ میں اللہ کو ہر شے کا خالق کہا گیا ہے۔ اس کے بعد یہ کہنا کہ وہی ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہے، اس بات میں کیا اضافہ کرتا ہے؟

جواب: اللہ اپنی پیدا کی ہوئی تمام چیزوں کی اب بھی نگرانی کرتا ہے

ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہونے کا مطلب ہے مسلسل اس کی دیکھ بھال کرتے رہنا۔ پیدا کر دینے کے بعد اللہ کی دیکھ بھال ختم نہیں ہو گئی، اور اللہ کی بنائی کوئی چیز کبھی اپنے حال پر نہیں چھوڑی جاتی۔

امام علی علیہ السلام اسلام کے بڑے استادوں میں سے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ ننھی چیونٹی کو غور سے دیکھیں۔ دیکھیں، چیونٹی کیسے اپنا دانہ گھر لے جاتی ہے۔ چیونٹی کو اتنا اچھا کس نے بنایا؟ اللہ کی کتاب بھی ہمیں دیکھنے اور سوچنے کو کہتی ہے۔

نہج البلاغہ، خطبہ ۱۸۵، چیونٹی والا حصہ

ننھی چیونٹی کو غور سے دیکھ کر آپ کیا جان سکتے ہیں؟

جواب: یہ کہ اللہ نے چیونٹی کو بڑی خوبی سے بنایا

چھوٹی سی چیونٹی بھی بڑی خوبی سے بنی ہے۔ کوئی چیز خود کو نہیں بناتی، اس لیے یہ خوبی اللہ کی طرف سے ہے۔

اسلام کے عظیم استادوں میں سے ایک، امام علی علیہ السلام نے فرمایا: "کیا تم اللہ کی پیدا کی ہوئی چھوٹی سی چیز کو نہیں دیکھتے، کہ اللہ نے اُس کی بناوٹ کیسی مضبوط کی، اُس کا ڈھانچا کیسا عمدہ جوڑا، اُس کے لیے سننے اور دیکھنے کی راہ کھولی، اور اُس کی ہڈی اور کھال کو کیسا ٹھیک بنایا!" اللہ کی کتاب بھی ہمیں دیکھنے اور سوچنے کو کہتی ہے۔

نہج البلاغہ، خطبہ ۱۸۵

امام علی علیہ السلام ننھی مخلوقات میں کس بات پر دھیان دینے کو کہتے ہیں؟

جواب: اس پر کہ وہ کتنی باریکی اور مہارت سے بنی ہیں

ننھی مخلوقات کی ایسی باریک کاریگری خود بخود نہیں ہو جاتی۔ یہ کاریگری اُن کے بنانے والے کا پتا دیتی ہے۔

اللہ کی کتاب بار بار لوگوں کی توجہ آسمان، زمین، بارش اور جان داروں کی طرف دلاتی ہے، اور لوگوں سے سوچنے کو کہتی ہے۔ اللہ کی کتاب سوچے سمجھے بغیر ایمان لانے کو نہیں کہتی۔ اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھنا اور ان پر غور کرنا ہی وہ راستہ ہے جس سے لوگ اللہ کو پہچانتے ہیں۔

اللہ کی کتاب بار بار آسمان، زمین اور جان داروں کی طرف کیوں توجہ دلاتی ہے؟

جواب: تاکہ لوگ ان پر سوچیں اور ان کے بنانے والے کو پہچانیں

آسمان اور زمین نشانیاں ہیں، منزل نہیں، اور نشانی اس لیے ہوتی ہے کہ اسے سمجھا جائے۔ آسمان اللہ نہیں۔ آسمان تو اللہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کوئی آنکھ اللہ کو نہیں دیکھ سکتی، نہ اس دنیا میں نہ آخرت میں؛ دل ایمان کی حقیقتوں سے اللہ کو پہچانتے ہیں۔

اسلام کے عظیم استادوں میں سے ایک، امام رضا علیہ السلام سے کسی نے پوچھا کہ دنیا کے وجود میں آنے کی دلیل کیا ہے۔ امام نے فرمایا: "تم پہلے نہیں تھے، پھر ہو گئے، اور تم جانتے ہو کہ نہ تم نے خود کو وجود دیا، اور نہ تمہیں کسی ایسے نے وجود دیا جو تم جیسا ہو۔"

عیون اخبار الرضا، جلد ۱، باب ۱۱، حدیث ۳۲، اور شیخ صدوق کی کتاب التوحید، باب ۴۲، حدیث ۳

امام کی دلیل پر غور کریں: آپ نے خود کو نہیں بنایا، اور نہ آپ جیسے کسی نے آپ کو بنایا۔ اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟

جواب: آپ کو ایک ایسے خالق نے وجود دیا جو آپ جیسا نہیں

جو چیز کبھی شروع ہوئی ہو، وہ کہیں سے تو آئی ہے۔ اُس کا سرچشمہ آپ ہی کی طرح کوئی اور شروع ہونے والی چیز نہیں ہو سکتا۔

صحیح یا غلط؟

سورج کس نے بنایا، اور لیمپ کس نے؟

جواب: سورج اللہ نے بنایا، اور لیمپ انسانوں نے

انسان شیشے اور دھات سے لیمپ بناتے ہیں۔ کوئی انسان سورج نہیں بنا سکتا۔ سورج اللہ نے بنایا۔

فرض کریں، آپ ساحل پر ریت کا قلعہ بناتے ہیں۔ آپ کا یہ کام اللہ کے کام سے کیسے مختلف ہے؟

جواب: میں نے پہلے سے موجود ریت کو شکل دی، اللہ کچھ نہ ہونے سے بناتا ہے

بنانے کا مطلب ہے موجود چیز کو شکل دینا۔ اللہ کچھ نہ ہونے سے پیدا کرتا ہے، اور ریت اور سمندر بھی اللہ ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔

بیالوجی کی کلاس میں آپ قدم بہ قدم سیکھتے ہیں کہ بیج درخت کیسے بنتا ہے۔ ذہن میں خیال آتا ہے: "اگر سائنس یہ سب سمجھا دیتی ہے، تو پھر اللہ کا اس میں کیا کردار ہے؟" کون سا جواب درست ہے؟

جواب: سائنس بتاتی ہے بیج کیسے اگتا ہے، بیج کا ہونا اور قائم رہنا اللہ سے ہے

سائنس بتاتی ہے کہ چیزیں کیسے ہوتی ہیں، اور ایمان بتاتا ہے کہ وہ کیوں موجود ہیں۔ ایمان سائنس کی خالی جگہیں بھرنے کا نام نہیں۔

کون سے جملے اللہ کے خالق ہونے کے تصور سے میل کھاتے ہیں؟ جتنے درست ہوں، سب چنیں۔

جواب: اللہ نے ہر چیز پیدا کی، زمان و مکان سمیت / ہر چیز ہر لمحہ صرف اس لیے موجود ہے کہ اللہ ہر چیز کو قائم رکھے ہوئے ہے / کائنات میں کسی چیز نے خود کو نہیں بنایا

خالق ہونے کا مطلب ہے عدم سے وجود دینا اور ہر لمحہ اُس وجود کو سنبھالے رکھنا۔ مادّے کو نئی شکل دینا انسان کا کام ہے، اور کوئی چیز اللہ کے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں چلتی۔

خالی جگہیں پُر کریں۔

معمار وہی چیزیں جوڑتے ہیں جو پہلے سے ___ ہوں۔ ___ اللہ کا ایک نام ہے: اللہ چیزوں کو ___ سے وجود میں لاتا ہے، اور چیزیں ___ اللہ کی محتاج ہیں۔

بارش کے بعد آپ کو دھنک نظر آتی ہے۔ آپ رک کر اسے دیکھتے ہیں۔ دھنک کو دیکھ کر آپ کیا جان سکتے ہیں؟

جواب: یہ کہ دھنک اللہ نے بنائی، اور اللہ بہت بڑا ہے

کوئی انسان دھنک میں رنگ نہیں بھرتا۔ دھنک خود کو بھی نہیں بناتی۔ دھنک کو دیکھ کر ہم اُسے بنانے والے اللہ کو پہچانتے ہیں۔

آپ گھر واپس آ رہے ہیں، اور آسمان نارنجی اور گلابی ہونے لگتا ہے۔ آپ رک کر دیکھتے ہیں۔ کون سی سوچ ٹھیک ہے؟

جواب: یہ خوبصورتی مجھے اپنے بنانے والے، اللہ، کی طرف لے جاتی ہے

روز کی شام بھی سوچنے کے لائق ہے، کیونکہ اللہ ہر شام یہ منظر نئے سرے سے بناتا ہے۔

آپ کہیں پڑھتے ہیں کہ انسانی آنکھ ستاروں کی مدھم روشنی میں بھی دیکھ لیتی ہے اور تیز دھوپ میں بھی۔ کون سا نتیجہ ٹھیک ہے؟

جواب: اتنی عمدہ بناوٹ اُس ہستی کا پتا دیتی ہے جس نے آنکھ کو بنایا

سائنس بتاتی ہے کہ آنکھ کیسے کام کرتی ہے۔ آنکھ کا موجود ہونا اور ہر لمحہ کام کرتے رہنا آنکھ کے بنانے والے کا پتا دیتا ہے۔

ایک راستے سے آپ برسوں سے گزرتے آئے ہیں، اور اس میں ایک درخت آتا ہے جس کے پاس سے آپ کئی بار گزرے ہیں۔ آج وہ پھولوں سے لدا ہوا ہے، اور آپ ایک لمحے کو رک جاتے ہیں۔ ایسی عام چیزوں کے بارے میں کون سی سوچ ٹھیک ہے؟

جواب: ان پر رک کر سوچنا مجھے اللہ کی بہتر پہچان تک لے جا سکتا ہے

عام چیزوں کو بھی اللہ ہی ہر لمحہ بناتا اور قائم رکھتا ہے، اس لیے یہ نشانیاں ہر وقت سمجھنے کے لیے موجود ہیں۔

لمبی عمر میں آپ نے بہار کو کئی بار لوٹتے دیکھا ہے۔ اس سال بھی پھول پھر سے کھل اٹھے ہیں۔ ان پھولوں کو کیا سمجھ کر دیکھنا سب سے درست ہے؟

جواب: پھولوں کے بنانے والے کی نشانیاں، جنہیں پہچاننا لمبا تجربہ سکھاتا ہے

ہر بہار نئے سرے سے بنائی اور قائم رکھی جاتی ہے۔ لمبی عمر نے بس یہ نشانیاں زیادہ بار دیکھی ہیں۔

ایک بار پھر اپنے آس پاس دیکھیں۔ کوئی ایک ایسی چیز چنیں جو آپ کو اچھی لگے اور جو کسی انسان نے نہ بنائی ہو۔ سوچیں، یہ چیز کس نے بنائی؟ پھر اس کے لیے اللہ کا شکر ادا کریں۔ آپ کہہ سکتے ہیں: الحمد للہ!

فطرت کی کسی ایک چیز کے بارے میں سوچیں جسے دیکھ کر آپ حیران رہ جاتے ہیں۔ یہ چیز آپ کو اپنے بنانے والے کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟ آج اس چیز کے لیے کہیں: اللہ کا شکر ہے!

اس ہفتے کی کوئی ایک چیز لکھیں جس نے آپ کو اللہ کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا، اور اس کے لیے الحمد للہ کہیں۔ پھر اللہ کے بارے میں کوئی ایک ایسا سوال لکھیں جو واقعی ابھی تک آپ کے ذہن میں ہے۔ ایمان پر گہری سوچ ایسے ہی سوالوں سے شروع ہوتی ہے۔

اس ہفتے آپ کس وقت ایک منٹ نکال سکتے ہیں، جب آپ رک کر کسی ایسی چیز کو دیکھیں جو کسی انسان نے نہیں بنائی؟ سوچیں کہ وہ چیز کیا بتاتی ہے، اور اس کے لیے اللہ کا شکر ادا کریں۔ وہ وقت ابھی طے کر لیں۔

کسی ایسی چیز کے بارے میں سوچیں جو آپ برسوں سے دیکھتے آئے ہیں اور جو آج بھی آپ کو سوچ میں ڈال دیتی ہے۔ وہ چیز اپنے بنانے والے کے بارے میں کیا کہتی ہے؟ آج اپنے الفاظ میں اس کے لیے اللہ کا شکر کیسے ادا کریں گے؟

اپنی لمبی زندگی میں آپ نے کائنات میں اللہ کی کون سی نشانی پہچاننا سیکھا ہے، جسے آپ چاہیں گے کہ آپ سے چھوٹے بھی دیکھیں؟ ہو سکے تو اس ہفتے کسی کو اس کے بارے میں بتائیں، اور بتاتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کریں۔